Type Here to Get Search Results !

امتحان ایک مشق ہے زندگی کی

امتحان ایک مشق ہے زندگی کی

”امتحانات کے سلسلے میں طالبات کو نفع بخش نصیحت اور اہم معروضات“


قدرتی خزانوں اور فطری رنگینیوں سے مالا مال یہ دنیا سخت ترین آزمائش رکھتی ہے۔ زندگی امتحان ہے اور امتحان زندہ دلی۔ انسانی زندگی کا ہر امتحان اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا ہے۔ لیکن تعلیم گاہوں کا سہ ماہی، شش ماہی اور سالانہ امتحان بالکل الگ نوعیت کا ہے۔ یہ وہ آسمانی یا زمینی ابتلا و آزمائش نہیں جس کے وقت اور نوعیت کا انسانی زندگی کو پہلے سے پتا نہ ہو، بلکہ یہ امتحان زندگی کی ایک مقررہ مشق کا نام ہے۔ یہ انسان کی روز مرہ زندگی سے مربوط ایک معمول کا عمل ہے جس کے بارے میں ہمیں پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ ایسا ہونا ہے اور فلاں وقت ہونا ہے، اس کی نوعیت یہ ہوگی، اس میں اتنا وقت دیا جائے گا، اس طرز کے سوال ہوں گے، کتاب، نصاب سب متعین ہے۔ یعنی اس امتحان کی تیاری کا بہتر سے بہتر انتظام پہلے سے موجود ہے، یہ تیاری کب شروع ہونی چاہیے دانش گاہوں میں زیر تعلیم اپنے دماغ سے اچھے اچھوں کو چکما دینے والے بچوں کو بتانے کی چنداں ضرورت نہیں۔
پانچ، چھ ماہ کا ایک بڑا وقت ہمارے پاس ہوتا ہے، امتحان میں آنے والے ہر سوال کے جواب کی کنجی ہماری دسترس میں ہے، لیکن ہم وہ چابی ہاتھ میں رکھے رکھے اپنا قیمتی وقت یوں ہی گزار دیتے ہیں اور جب امتحان میں ایک ماہ یا نصف ماہ باقی بچ جاتا ہے تو ہمیں ہوش آتا ہے اور ہم تمام کتابوں کی بھرپور تیاری کے لیے رات دن ایک کر دیتے ہیں۔ بے وقت سونا جاگنا، بے وقت کھانا پینا، بحثوں کا الجھاو، کتابوں کا ٹکراو، نتیجتاً زندگی بے سمتی کا شکار اور وقت ہنگاموں کی نذر ہو جاتا ہے۔ ایسے نازک وقت میں ہم پر ایک متعینہ نظام الاوقات کی پابندی لازم ہے، ورنہ جلد بازی میں سب کچھ پا لینے کی خواہش ہمیں بہت کچھ سے بھی محروم کر دے گی۔ ذیل میں کچھ ضروری اور قابل عمل رہنما امور درج کیے جا رہے ہیں جن پر توجہ دی جائے تو بچے ہوئے وقت کو کارآمد اور امتحان کی تیاری کو مفید بنایا جا سکتا ہے:
(۱) جتنا وقت بچا ہے اس میں ہر کتاب کے مقررہ نصاب تک بھرپور تیاری ممکن نہیں تو دو تہائی ضرور ہونی چاہیے اس کے لیے مقررہ نصاب تک ایک بار چشمِ ہوش سے کتاب کی تمام بحثیں دیکھی جائیں اور دو تہائی اہم بحثوں کو نشان زد کر کے انہی پر فوکس رکھے۔
(۲) شُروح سے تیاری بالکل نہ کی جائے کہ یہ وقت طول طویل بحثوں والی شروح کے مطالعے میں الجھنے کا نہیں۔
(۳) شرحیں ناگزیر ہوں تو اس کے بالکل ضروری حصے پر توجہ مرکوز رکھے جو نفسِ بحث سے متعلق ہو اور فہم عبارت میں کافی ہو۔
(۴) تیاری کے دوران ایک نوٹ بک میں بحثوں کے اشاراتی جملے درج کرتا جائے۔
(۵) تمام کتابوں کی برابر تیاری ہو، یہ نہ ہو کہ دو تین کتاب میں پورا وقت استعمال کر لیا جائے اور چند ایک کے لیے کچھ وقت بھی نہ بچے۔
(۶) امتحان کی فکر تو کرنی چاہیے لیکن بدحواس نہیں ہونا چاہیے، ہماری محنت اور مناسب تدبیر ہر مشکل کو حل کر سکتی ہے۔
(۷) کمزور طلبہ ان امور میں اپنے سینئر ساتھیوں سے مدد لینے کی اخلاقی طور پر کوشش کریں، ان پر دباو نہ بنائیں، نہ طنز و تعریض کا نشانہ بنائیں۔
(۸) سینئر اور ذہین طلبہ گرتے اور ڈوبتے ہوؤں کو سنبھالنے کا اخلاقی فریضہ نبھائیں۔

شاداب حسین مصباحی 
۳/ ستمبر ۲۰۲۳ء

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.